Is permissible to give Sadaqatul Fitr to non-Muslims?

This post has 179 views.

Question:

Is allowed to give Sadaqatul Fitr to non-Muslims?

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.

Sadaqat-ul-Fitr, like Zakat, must be paid to Muslims. [1]

And Allah Ta’ala Knows Best.

Khalil Tatarstani

Student – Darul Iftaa

Orenburg, Russia

Checked and Approved by,

Mufti Muhammad Zakariyya Desai.


[1]  البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 315): ويرد على الكلية المذكورة الدفع إلى الذمي فإنه جائز في الكفارة دون الزكاة، وفي الخانية أيضا لو أعطى في كفارة اليمين عشرة مساكين كل مسكين مدا مدا ثم استغنوا، ثم افتقروا ثم أعاد عليهم مدا مدا عن أبي يوسف لا يجوز ذلك؛ لأنهم لما استغنوا صاروا بحال لا يجوز دفع الكفارة إليهم فبطل ما أدى كما لو أدى إلى مكاتب مدا، ثم رده في الرق، ثم كوتب ثانيا، ثم أعطاه مدا لا يجوز ذلك

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 300):[حاشية الشلبي] (قوله وقال أبو يوسف والشافعي لا يجوز) وهو رواية عن أبي يوسف اهـ هداية وفي المحيط إلا في رواية عن أبي يوسف إلا التطوع فإنه يجوز إليه بالاتفاق وفي المبسوط وفقراء المسلمين أحب لأنه أبعد عن الخلاف ولأن المسلم يتقوى به على الطاعة وعبادة الرحمن والذمي يتقوى به في طاعة الشيطان. اهـ. كاكي

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 368): (وصدقة الفطر كالزكاة في المصارف) وفي كل حال (إلا في) جواز (الدفع إلى الذمي) وعدم سقوطها بهلاك المال وقد مر

•———————————•

(قوله: إلا في جواز الدفع إلى الذمي) في الخانية جاز ويكره. وعند الشافعي وإحدى الروايتين عن أبي يوسف لا يجوز تتارخانية وقدم عن الحاوي أن الفتوى على قول أبي يوسف ومر الكلام فيه. [تنبيه] ينبغي استثناء العامل كما قلنا آنفا؛ لأنها ليست من عمالته (قوله: وقد مر) كل من المسألتين: أما الأولى ففي باب المصرف، وأما الثانية ففي هذا الباب ح.

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (3/ 2048): وقال الحنفية: صدقة الفطر كالزكاة في المصارف وفي كل حال، إلا في جواز الدفع إلى الذمي مع الكراهة، وعدم سقوطها بهلاك المال، لكن الفتوى على قول أبي يوسف وهو عدم جواز صرفها للذمي، كزكاة الأموال، للحديث المتقدم في الزكاة: «صدقة تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم».

امداد الاحکام ج٢ ص٤٧:  سوال :بہشتی زيور مدلل ومکمل حبلد سوم صفحہ ۴۴ مسئلہ نمبر ٨  میں بحوالہ درمختار ص٦٧ ج٢ مرقوم ہے کہ زكوة کا پیسہ کسی کافر کو دینا درست نہیں مسلمان ہی کو دیوے ، اور زکوۃ اور عشر اور صدقہ فطر اور نذر اور کفارہ کے سوا اور خیرخیرات کا کا فر کو بھی دینا درست ہے۔ در مختار میں دیکھا گیا تو یہ عبارت ملتی ہے………. اب شبہ یہ ہو رہا ہے کيه متون اور طرفین رحمها اللّد كے خلاف بہشتی زیور میں کیوں درج ہوا، کیا کوئی دوسری دلیل ان سب دلائل پر فوقیت کی والی موجود ہے ، اگر موجو دتھی تو کیوں نہیں درج فرمائی گئی، اور اگر نہیں موجود ہے تو یہ دلائل کیوں نظر انداز کر دئیے گئے، امید کہ شافی جواب سے تشفی بخشی جاوے ؟

الجواب ، چونکہ امام ابو یوسف کی وہ روایت مفتی بہ ہے جس میں نذر و کفارہ کو زکوة کے حکم میں داخل کیا ہے، (چنانچہ سوال میں بقولہ یفتی وبقولہ ناخذ خودنقل کیا ہے) پس اس بناء پر بہشتی زیور میں نذر وکفارہ کو زکوۃ کے ساتھ درج کیا ہے، باقی رہی یہ بات کہ متون کے خلا کیوں لکھا ، اس کا جواب یہ ہے کہ متون کے خلاف اگر فتوی کی تصریح موجودہو تو فتوے پر عمل کیا جائے گا، کمافی الشامی (ص٧٤ ج١)

احسن الفتاوی ج٤ ص٣٨٣:  الجواب باسم ملهم الصواب کا فر حربی کو صدقہ فطر دنیا بالاتفاق ناجائز ہے، ذمی کے بارے میں اختلاف ہے ، شامیہ باب المصرف و باب صدقۃ الفطر میں بظاہر جواز کو ترجیح معلوم ہوتی ہے مگر کفارۃ ظہار کے باب میں کافی سے بروں ذکر خلاف عدم جواز نقل کیا ہے جوفیصله کے لئے کافی ہے و نصہ تحت (قوله و مصرفا ) قال الرملى وفى الحاوى و ان اطعم فقراء اهل الذمة جاز وقال ابویوست رحمہ اللہ تعالی لا يجوز و به ناخذ قلت بل صرح فی کافی الحاكم بانه لا يجوز ولم يذكر فيه خلافا و به علم انه ظاهر الرواية عن الكل (رد المحتار ص ٦٣٣ ج٢)

فتاوی محمودیہ ج١٤ ص٢٢٦:  یہاں کے ہنود کے حربی ماننے کی صورت میں ( جیسا کہ حضرت مولانا گنگوہی کی رائے ہے) صدقۃ الفطر دینے کی گنجائش نہیں اور انکا ذمی نہ ہونا تو بالکل ظاہر ہے، ذمی کے متعلق بھی اہم ابو یوسف کا قول یہ ہیکہ اسکو دینا درست نہیں در مختار نے حاوی قدسی سے اس پرفتوی نقل کیا ہے اور صاحب ہدایہ وغیرہ نے قول طرفین کوترجیح دی ہے